بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا
* یوم بعثت سال کے تمام دنوں میں پربرکت ترین اور عظیم ترین دن ہے۔ ہمیں اس دن کی تکریم کرنا چاہئے اور اس واقعے کی عظمت کو اپنے ذہنوں میں مجسم کرنا چاہئے۔ (عید بعثت کے موقع پر ملکی عہدیداروں سے خطاب، مورخہ 30 جون سنہ 2011ع)
* شاید کہا جا سکے کہ حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بعثت ایسا واقعہ ہے جس کا موازنہ اصولی طور پر انسانوں کی خلقت کے واقعے سے ہونا چاہئے، اس قدر یہ واقعہ عظیم اور اہم ہے۔ (حکومتی کارگزاروں سے خطاب، مورخہ 21 جنوری سنہ 1993ع)
* بعثت یعنی برانگیختہ کرنا [اٹھانا، ابھارنا، اکسنا اور مبعوث کرنا] انسان کی نجات اور بنی نوع انسان کی نجات کے لئے؛ یعنی انسانی برادری میں صلاح و سِداد (اچھائی اور درستی) کا نظام قائم کرنا؛ اور یعنی خیرخواہی بنی نوع انسان کے ہر فرد کے لئے۔ (سرکاری عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب، مورخہ 5 مئی سنہ 2016ع)
* ہر پیغمبر کی ولادت اور ہر بعثت کا دن، پوری انسانیت کے لئے عید اور نیا دن ہے۔ پیغمبروں نے زندگی کو انسانوں کے لئے مہیا کردیا اور اس کو بالیدگی، نشوونما اور حرکت اور ارتقاء کے میدان میں تبدیل کر دیا؛ اسلام کے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ والہ) خاتم الانبیاء اور اور انسانیت کے لئے، آخری اور لافانی کلام لانے والی ہستی ہیں۔ (ملکی اہلکاروں سے خطاب، مورخہ 2 ستمبر سنہ 2005ع)
* اگر ہم انسانی تاریخ کے واقعات میں انبیاء کی بعثت کو ـ بنی نوع انسان کے مقدرات میں تمام دوسرے واقعات سے زیادہ اہم سمجھیں؛ تو پیغمبر خاتم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بعثت کا واقعہ تمام بڑے چھوٹے واقعات میں سر فہرست ہوگا۔ (سرکاری اہلکاروں سے خطاب، مورخہ 28 نومبر سنہ 1997ع)
* عید مبعث انسانی مشقتوں کے ازالے کے لئے برانگیختگی کی عید ہے؛ چنانچہ یہ حقیقتاً عید ہے۔ غیر اللہ کی بندگی، [معاشروں میں] ظلوم اور ناانصافی کی حکمرانی، طبقات کے درمیان دراڑ، کمزور طبقوں کے مصائب اور تکالیف اور جابروں کا ظلم و جبر، ہمیشہ سے انسانی معاشروں کے مصائب اور تکالیف میں سے ہیں۔ (سرکاری عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب، مورخہ 5 مئی سنہ 2016ع)
* انسان کی ہدایت اور انسان کو عروج تک پہنچانے کے لئے، پیغمبروں کی بعثت اور اِرسالِ رُسُل، انسان کے حق میں پروردگار کی عظیم ترین نعمت ہے اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بعثت اس رحمت کا عروج ہے۔ (سرکاری عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب، مورخہ 14 اپریل سنہ 2018ع)
* نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بعثت سب سے پہلے توحید کی دعوت تھی۔ توحید محض ایک فلسطینی اور فکری نظریہ نہیں ہے؛ بلکہ انسانوں کے لئے زندگی کا شیوہ ہے؛ اللہ کے اپنی زندگی میں حاکم بنانا، اور مختلف طاقتوں کے ہاتھ انسانی زندگی سے کوتاہ کرنا۔ (سرکاری اہلکاروں سے خطاب، مورخہ 24 ستمبر سنہ 2003ع)
* بعثتِ پیغمبرؐ، در حقیقت رحمت کی بعثت ہے۔ اس بعثت کی رو سے خدا کے بندے اللہ کی رحمت سے مستفید و مستفیض ہوئے؛ یہ راستہ انسانوں کے سامنے کھل گیا؛ اسی نے عدالت و انصاف کا مسئلہ ابھارا، امن و سلامتی کو نمایاں کیا۔ (عید بعثت کے دن سرکاری اہلکاروں سے خطاب، مورخہ 10 جولائی سنہ 2010ع)
* بعثت اس لئے ہے کہ انسانوں کو تاریکیوں سے خارج کرے اور اس کو روشنی کی طرف لے جائے۔ (سرکاری عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب؛ مورخہ 25 اکتوبر سنہ 2000ع)
* انبیاء کی بعثت ایک جامعۂ فاضلہ [اور مطلوبہ معاشرے] کا قیام اور ایک تہذیب کی تشکیل ہے۔ (سرکاری عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب؛ مورخہ 3 اپریل سنہ 2019ع)
* پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے نسانوں کو متحرک ہونے اور کھڑے ہونے کی دعوت دی: اللہ کے لئے قیام، انسانی زندگی کے ہر قسم کے حالات میں کارساز ہے اور قیام اور حرکت کے بغیر کسی بھی اعلی مقصد تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ (سرکاری عہدیداروں سے خطاب؛ مورخہ 24 ستمبر سنہ 2003ع)
* بعثت کے اغاز کی پامردی شعب ابی طالب میں تین سالہ عجیب استقامت پر منتج ہوتی ہے۔ وہ ابتدائی پامردی ۔۔۔ ایک ماحول میں اس قسم کی استقامت کو جنم دیتی ہے کہ ہر فرد صبر کرتا ہے۔۔۔ یہ ہے امت مسلمہ کے اٹھ کھڑے ہونے کا راستہ، "امت اسلامی کی بعثت" یہی ہے، (سرکاری عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب، مورخہ 30 جولائی 30 جولائی سنہ 2008ع)
* بعثت کے مد مقابل محاذ، جاہلیت کا محاذ ہے۔ جاہلیت کو تاریخ کے ایک واضع اور متعینہ دورے تک محدود نہیں سمجھنا چاہئے؛ جاہلیت جاری ہے، جیسا کہ بعثت بھی جاری ہے۔ (سرکاری عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب، مورخہ 5 مئی سنہ 2016ع)
* ایران میں عظیم انقلاب اسلامی نے دور حاضر میں بعثت کے مضمون [اور محتویات و معطیات] کو زندہ کر دیا؛ یعنی خدائے متعال نے ہمارے امام بزرگوار [امام خمینی [رضوان اللہ علیہ)] کو توفیق دی کہ بعثت نبوی کے دائمی [اور جاری و ساری] کو اس دور میں، تخلیقی صلاحیت، بہادری، رفعتِ فکر اور اپنی قربانیوں کے ذریعے مضبوط اور نمایاں کر دیں۔ (عید بعثت کے موفع پر ٹیلی وژن سے خطاب، 11 مارچ سنہ 2021ع)
* آج بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) حالتِ بعثت میں ہیں۔ [یعنی] آپ جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اس سے کوئی سبق سیکھتے ہیں، اور ایک حرکت کا آغاز کرتے ہیں، [یہی] بعثت نبوی کا دوام اور تسلسل ہے۔ (سرکاری عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب، مورخہ 3 اپریل سنہ 2019ع)
* انقلاب اسلامی بعثت نبوی کا تسلسل ہے، اسلامی جمہوریہ بعثتِ پیغمبر کا تسلسل ہے۔ جو اسلامی انقلاب کا دشمن ہے، وہ صدر اول کے دشمنوں کی طرح، "بعثت اسلامی" [اور بعثتِ امت] اور توحیدی تحریک کا دشمن ہے۔ (سرکاری عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب، مورخہ 3 اپریل سنہ 2019ع)
* آج، ہم سب مسلمانوں کا فریضہ بیدار ہونا اور دنیا کو بعثت کی حقیقت سے آگاہ کرنا ہے۔ (سرکاری عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب؛ مورخہ 5 مئی سنہ 2016ع)
* ہر مسلمان انسان کا فریضہ ہے کہ بعثت نبوی کو اپنی ذاتی زندگی میں، اور اپنی دنیا میں عملی جامعہ پہنائے اور ایمان، عمل اور فعالیت کے ساتھ ان اہداف و مقاصد کی طرف آگے بڑھے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بعثت میں موجود تھے، اور یوں سعادت الٰہی کی بہشت اور معنی جنت تک واصل ہوجائے۔ (قراء قرآن کے اجتماع سے خطاب مورخہ 23 فروری سنہ 1990ع)
* جشن بعث اور عید مبعث کی یاد منانا زیادہ تر اس لئے ہے کہ ہم مضمون بعثت کا ایک بار مطالعہ کریں اور اس اس سے سبق حاصل کریں، مقصد یہ ہے۔ (سرکاری عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب، مورخہ 16 مئی سنہ 2015ع )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ